اسرائیل گدھ

خبروں کے ہجوم میں بے شمار اہم واقعات نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ پوری دنیا اسرائیلی جارحیت پر مرثیہ خواں ہے۔ پاکستا ن میں بجٹ اور سیاسی آپا دھاپی لوگوں کے لیے تفریح کا سامان پیدا کر رہی ہے۔ ان تمام قومی و عالمی المیوں کے بیچوں بیچ دریائے نیل کے پانی پر مسلم ممالک کو لڑایا جارہا ہے۔ اس ساری جنگ کو’ ہلا شیری‘ دینے والا اسرائیل ہے۔دریائے نیل پر بھی وہی منظر بن رہا ہے جو پاک بھارت پانی کے مسئلے پر ہے ۔اسرائیل کی کوشش ہے کہ مصر کو پانی سے محروم کرکے اسرائیل کو سیراب کردیا جائے۔اس مقصد کی خاطر اس نے مسلمان کو مسلمان سے لڑادیا ہے۔ چھوٹے ممالک کی درپردہ پیٹھ ٹھو نک کر انہیں مصر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھمکیاں دینے پر آمادہ کیاہے۔اسرائیلی سازش سمجھنے سے پہلے ہمیں دنیا کے سب سے بڑے دریا کے بارے میں جاننا ہوگا۔

دنیا کا سب سے طویل یہ دریا براعظم افریقہ میں واقع ہے۔اس دریا کی کہانی بھی بڑی عجیب ہے۔ایسے معلوم ہوتاہے کہ قدرت نے افریقہ کے اکثر ممالک کی رگوں سے پانی نچوڑ کر مصر اورسوڈان کو نہال کردیاہے۔ برونڈی، کانگو، تنزانیا ، روانڈا ،ایتھوپیا ،ایریٹیریا اور سوڈان کی چھوٹی چھوٹی زمینی شریانوں سے بنتا یہ دریا مصر میں داخل ہونے سے پہلے مکمل ہوجاتاہے۔ دریائے نیل دو بڑے دریائوں سے مل کر بنتاہے جنہیں نیل ازرق اور نیل ابیض کہا جاتا ہے۔

نیل ازرق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے قریب نیل ابیض سے مل کر دریائے نیل تشکیل دیتا ہے۔نیل ازرق اگر چہ لمبائی میں نیل ابیض سے چھوٹاہے مگر مصرمیں پہنچنے والا 56فیصد پانی یہی دریا فراہم کرتاہے۔ یہ دریا سوڈان کے لیے بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے جہاں اس پر قائم دو ڈیم ملک کی80 فیصد بجلی پیدا کرتے ہیں۔ انہی ڈیموں کی بدولت اس علاقے میں دنیا کی بہترین کپاس پیدا ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ دریائے نیل سے سب سے زیادہ فائدہ مصر اور سوڈان اٹھاتے ہیں۔اسی لیے افریقی ممالک میں ان دونوں کی معاشی و اقتصادی صورتحال بہت بہتر ہے۔ سارا مصر اسی دریا کے دونوں کناروں پر واقع ہے۔ موجودہ دارلحکومت قاہر ہ بھی اسی کے کنارے پر ہے۔قدیم مصر کے تمام آثار قدیمہ بھی دریائے نیل کے کناروں کے ساتھ ہی ملتے ہیں۔طرفہ تماشا دیکھیے کہ سوڈانی دارالخلافہ خر طوم بھی اسی جگہ واقع ہے جہاں نیل ابیض اور نیل ازرق آ کر ملتے ہیں۔

نیل کے پانی پر لڑائی کا آغاز اسی سال ہوا ہے مگر ناانصافی پر مبنی پانی کی تقسیم کا فارمولا 1959ء میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دریائے نیل کا 90فیصد پانی صرف مصر اور سوڈان کی ملکیت ہے۔ وہ سات افریقی ممالک جن سے یہ پانی جمع ہو کر آتاہے وہ پانی کا صرف 10فیصد حصہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس ناانصافی کے ڈانڈے بھی برطانوی سامراج سے ملتے ہیں۔1929ء میں جب مصر برطانیہ کی ایک نوآبادی تھا، اس وقت ایک معاہدے کے تحت ان تمام افریقی ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں طے پایا تھا کہ علاقے کے ممالک کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے میں صرف مصر کو’ ویٹو ‘کا اختیا رہوگا۔ گویا علاقے میں ہونے والے تمام معاہدوںمیں مصر ی حکومت کی رضامندی شرط ہے۔اس اختیار کے خلاف اکثر افریقی ممالک میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایک عرصے سے کوشش جاری تھی کہ مصری تسلط کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔

اب پہلی مرتبہ ہواہے کہ مصر او ر سوڈان کی انتہائی مخالفت اور دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چار افریقی ممالک نے یوگنڈا کے شہر میں جمع ہوکر نئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یوگنڈا، ایتھوپیا ، روانڈا اور تنزانیہ نے معاہدے پر دستخط کیے جبکہ کینیا نے اس کی حمایت میں بیان جاری کیا۔ان پانچ ممالک کے متفقہ معاہدے نے مصر کی بالادستی کو چیلنچ کیا ہے۔ مصر نے معاہدے سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر کسی ملک نے نیا معاہدہ کیا تو اسے اعلان جنگ سمجھیں گے۔ معاہدے نے نئی جنگ چھیڑدی ہے۔ یہ جنگ افریقی ممالک کے درمیان کھینچا تانی تک محدود ہوتی تو کو ئی بڑی بات نہ تھی مگر پس پردہ اسرائیلی پشت پناہی اور تزویراتی سازشوںنے صورتحال انتہائی نازک بنادی ہے۔ ایتھوپیا ، کینیا ، یوگنڈا اور روانڈا کے اسرائیل سے بڑھتے تعلقات اور خفیہ اعلی سطحی ملاقاتیں معاملے کی گھمبیرتامیں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔

امریکا کے خونخوار منہ کو تیل کا چسکا لگا ہے جبکہ اس کا لے پالک اسرائیل میٹھے پانیوں کا دیوانہ ہے۔ اسی سال اسرائیل نے فلسطینیوں کا پانی چوری کیا اور اس وقت یہ صورتحال ہے کہ اسرائیلیوں کے سوئمنگ پول پانی سے لبالب بھرے ہیں جبکہ فلسطینی وضو کے لیے بھی قطرہ قطرہ پانی کے محتاج ہیں۔پانی کی خاطر اسرائیلی ہوس کی انتہا دیکھیے کہ اس نے اپنے قریبی علاقوں سے گزرنے والے ہر دریا میں اپنی چونچ ڈال رکھی ہے۔

اسرائیل تک میٹھے پانی کی رسائی کا واحد ذریعہ بحیرئہ طبریہ ہے ۔مصر اور اسرائیل مشترکہ طور پر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔بحیرئہ طبریہ میں دریائے اردن سے پانی آکر گرتاہے۔دریائے اردن شمال میں شام، لبنان اور ترکی کی پہاڑیوں سے نکلتا ہے۔ شمالی علاقے میں یہ تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہوا شام اور اسرائیل کی سرحد کا کام دیتا ہوا، گولان پہاڑیوں کے نزدیک بحیرہ طبریہ یا گلیل کی جھیل میں جا گرتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل ہے۔ یہ جھیل سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔ اسی جھیل کے کنارے وہ پہاڑی ہے، جہاں آپ کا دیا ہوا وعظ بہت مشہور ہوا۔ جھیل کے کناروں پر آباد شہر سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی منادی سے گونجتے رہے۔ آپ کے بعض حواری اسی جھیل کے مچھیرے تھے۔ اسی کے جنوب مغرب میں آپ کا آبائی شہر ناصرہ بھی ہے۔

گلیل کی جھیل سے نکل کر دریائے اردن تقریباً سو کلومیٹر کا مزید فاصلہ طے کر کے ڈیڈ سی یعنی بحیرہ مردار میں آ گرتا ہے۔ درمیان میں یہ دریا اردن اور اسرائیل کی سرحد کا کام دیتا ہے۔ ا س وقت یہ صورتحال ہے کہ دریائے اردن کا پانی خشک ہونے کے قریب ہے اسرائیل نے اس کی شریانوںسے پانی کی ایک ایک بوند نچوڑلی ہے۔ ماہرین کے تازہ ترین سروے کے مطابق ہزاروں سال سے بے شمار انسانوں کو زندگی دینے والا دریائے اردن خاتمے کے قریب پہنچ گیا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اگلے سال تک یہ لق دق صحرامیں تبدیل ہوجائے گا۔فرینڈز آف ارتھ، مڈل ایسٹ نامی گروپ سے منسلک ماہرین نے یہ انتباہ ایک تحقیقی رپورٹ میں دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسی زمانے کا عظیم دریائے اردن اب صرف ایک چھوٹی آلودہ نہر میں بدل گیا ہے۔ بحیرہ طبریہ کے جنوب تک محدود ہوجانے والے اس مشہور دریا کو حد سے زیادہ استفادے، بدانتظامی اور بڑھتی آلودگی نے اس انجام تک پہنچایا ہے۔

دریا کے بہاؤ کا 98فیصد اسرائیل، شام اور اردن اپنی طرف موڑ دیتے ہیں جبکہ بقیہ بہاؤ نکاسی کے پانی، مچھلیوں کے تالاب، زرعی آبپاشی کی نہروں اور سیم نالے پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر ٹھوس اقدمات نہ کیے گئے تو جنوبی دریائے اردن اگلے سال کے آخر تک ختم ہوجائے گا۔ یہ وہی دریا ہے جہاں عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بپتسمہ دیا گیا تھا۔ اسی دریا سے ہی بحیرئہ مردار میں زندگی کی لہر دوڑ رہی ہے ۔ دریائے اردن کے پانی کی بندر بانٹ اور اسرائیلی چیرہ دستی کا نتیجہ ہے کہ دریائے اردن میں پانی کی سطح گرنے سے اب بحیرئہ مردار کسی بھی لمحے خشک ہوسکتاہے۔

اسرائیلی یہودیوں کو دوطرفہ اندیشوں نے گھیر رکھا ہے ایک طرف تو خدشہ ہے کہ اگلے سال تک دریائے اردن خشک ہوجائے ،اسی طرح یہ خطرہ بھی ہے کہ اردن نے دریا پر ڈیم تعمیر کرلیا تو صہیونیوں کے پاس فلسطینی بچوں کے خون سے آلودہ ہاتھ دھونے کے لیے بھی پانی نہیں بچے گا۔ اس لیے اسرائیل ایڑی چوٹی کا زور لگارہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مصر کوراضی کرکے دریائے نیل کے پانی تک رسائی حاصل کی جائے۔اس مقصد کے لیے بھاری معاوضہ ، دھونس دھاندلی اور سیاسی دبائو کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے متعدد حربے آزمائے ہیں۔ مسلم اکثریتی ملک ایتھوپیا میں بغاوت کے ذریعے عیسائی حکومت قائم کرنا ، سوڈان میں جنوبی ریاستوںکے عیسائیوں کیلیے آزاد وطن کا مطالبہ کرنا ،شام کے کیتھولک عیسائیوں کے لیے آزاد وطن کا مطالبہ اور پس پردہ رہ کر ان کی بھرپور امداد کرنا اور سوڈان میں خانہ جنگی کو ہوا دینا اسی اسرائیل دبائو اور سازشی صیہو نی دماغ کا شاخسانہ ہے۔کیونکہ دریائے نیل سوڈان سے گزر کر مصر پہنچتاہے اور اگر سوڈان تقسیم ہوگیا تودریائے نیل پر کسی بھی نئے ڈیم کی تعمیر سے مصر کی شہ رگ پر اسرائیلی پائوں آجائے گا ۔

دریائے اردن میں پانی ختم ہونے کامطلب ہوگا کہ بحیرئہ طبریہ کا وجو دصفخہ ہستی سے مٹ جائے گا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو بدترین آبی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ الگ بات کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہی معلوم ہوتاہے کہ دجال نے ان سے یہ سوال بھی پوچھا کہ کیا بحیرہ طبریہ میں پانی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ اس میں تو بہت پانی ہے۔ اس نے کہا یقینا عنقریب اس کا پانی ختم ہو جائے گا۔

0 Comments

Leave a reply

©[2019] All rights reserved to Buraqq.com

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

Create Account